اندور4جولائی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مدھیہ پردیش کے مندسور میں وحشیانہ عصمت دری کی شکار سات سالہ طالبہ کی صحت میں افاقہ ہوا ہے ۔ آج یہاں سرکاری اسپتال کی انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) سے عمومی وارڈ میں منتقل کیا گیا۔
بہرحال، واردات کی وجہ بچی کو لگے گہرے ذہنی صدمے کے پیش نظر اسپتال انتظامیہ فی الحال اس کے حق میں نہیں ہے کہ پولیس اس کا بیان درج کرنے میں عجلت کا اظہا رکرے ۔ متاثرہ بچی مندسور سے تقریبا 200 کلومیٹر دور اندور کے ایک اسپتال میں 27 جون کی رات سے بھرتی ہے۔
اسپتال سپرنٹنڈنٹ وی ایس پال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بچی کی صحت میں مسلسل بہتری کے بعد ہم نے اسے آئی سی یو سے نجی وارڈ میں بھیج دیا ہے اس نے پہلے کے مقابلے زیادہ مقدار میں غذا لینا شروع کر دیا ہے، تاہم وہ ثقیل غذا کی متحمل نہیں ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ بچی ذاتی وارڈ میں کھلونوں سے کھیل رہی ہے اور اپنے اہل خانہ سے بات کر رہی ہے۔ وہ اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں سے فون پر بھی بات کر رہی ہے۔دریں اثنا مندسور پولیس نے اسپتال انتظامیہ سے بچی کا بیان درج کرنے کی اجازت مانگی ہے تاکہ اس کیس میں عدالت میں جلد سے جلد چارج شیٹ دائر کیا جا سکے۔
مندسور میں ملزمان نے بچی کو 26 جون کی شام اسکول کی چھٹی کے بعد مبینہ طور پر لڈو کھلانے کا لالچ دے کر اغوا کر لیا تھا، اس وقت وہ پیدل اپنے گھر جا رہی تھی۔ درندگی کے بعد تیسری کلاس کی اس بچی کو جان سے مارنے کی نیت سے اس پر دھاردار ہتھیار سے حملہ بھی کیا گیا تھا۔ وہ 27 جون کی صبح شہر کے بس اسٹینڈ کے قریب جھاڑیوں میں لہولہان حالت میں ملی تھی ۔